سن[1]

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بے حس و حرکت، شَل۔ "ان کے ہاتھ پتھروں کے بوجھ سے سن ہو رہے تھے۔"      ( ١٩٨٧ء، افکار، کراچی، جولائی، ٥٢ ) ٢ - حیران، ششدر، ہکا بکا۔ "اور سنتے ہی دونوں سن ہو گئے تھے۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مکھ، ٣٣ ) ٣ - چپ چاپ، خاموش۔  شوق اس کی گالیوں سے ہو گئے سن اہل بزم کوئی گونگا بن گیا اور کوئی بہرا ہو گیا      ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، فیضانِ شوق، ٣٧ ) ٤ - [ فلسفہ ]  خالی، تہی۔ "یہ لوگ علم و اشیا کو سن کہتے ہیں . اور ان کے ہست و نیست کا یقین نہیں کرتے۔"      ( ١٩٣٩ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ١٨٦:٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'شونیہ' سے اردو میں ماخوذ 'سن' بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے حس و حرکت، شَل۔ "ان کے ہاتھ پتھروں کے بوجھ سے سن ہو رہے تھے۔"      ( ١٩٨٧ء، افکار، کراچی، جولائی، ٥٢ ) ٢ - حیران، ششدر، ہکا بکا۔ "اور سنتے ہی دونوں سن ہو گئے تھے۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مکھ، ٣٣ ) ٤ - [ فلسفہ ]  خالی، تہی۔ "یہ لوگ علم و اشیا کو سن کہتے ہیں . اور ان کے ہست و نیست کا یقین نہیں کرتے۔"      ( ١٩٣٩ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ١٨٦:٢ )

اصل لفظ: شونیہ